اڈپی 15؍اگست (ایس او نیوز)کروڑپتی بزنس مین بھاسکر شیٹی مرڈر کیس جس میں خود اس کی بیوی اور بیٹے کے ساتھ نرنجن بھٹ نامی جیوتشی کو بھی کلیدی ملزم بنایا گیا ہے، کچھ دنوں تک سست رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنے کے بعد اب لگتا ہے کہ اس میں تیزی آگئی ہے۔ کیس کی سست رفتاری کے تعلق سے بھاسکر شیٹی کی والدہ اور دیگررشتے داروں کی بے اطمینانی کے علاوہ عوامی سطح پر بھی چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں کہ پولیس جان بوجھ کر قاتلوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے اور معاملے کو غلط رخ میں لے جارہی ہے۔دو دن قبل ملزموں کا ایک پوش ہوٹل میں پولیس کے ساتھ کھاناکھاکر معزز مہمانوں کی طرح باہر نکلتا ہوا ویڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگئی تھی۔
تحقیقاتی افسر کی تبدیلی : اس دوران اڈپی ضلع کے ایس پی کے طور پر مسٹر بالاکرشنا نے چارج لیا اور خود آگے بڑھ کر اس کیس کی تحقیقات میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ جس کا نتیجہ بھی سامنے آتا دکھائی دے رہا ہے۔اس کے علاوہ شروعات میں مقرر کیے گئے تحقیقاتی افسرکو بدل کراسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سوُمانا ڈی پی کو جب تحقیقاتی افسر مقرر کیاگیا تو ان کی قیادت میں تحقیق بڑی تیزی سے اور بامقصد طریقے پر آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اب اس کیس کی تفتیش میں روز نئی باتیں سامنے آرہی ہیں۔تحقیقات کے لئے پولیس کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو الگ الگ زاویوں سے تفتیشی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔
ہوما کُنڈا کا چکر: بھاسکر شیٹی کو قتل کرنے کے بعد جس ہوما کُنڈا (ہوما کرنے کا گڑھا) میں جلاکربھسم کیا گیا تھا اس بارے میں نئی بات یہ پتہ چلی ہے کہ نرنجن بھٹ کے گھر میں یہ ہوما کُنڈا چند دن پہلے ہی شاید اسی مقصد کے لئے بنایا گیاتھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لاش کو پہلے زمین پر بچھی ٹائلس پر رکھا گیا۔ پھر اس پر اینٹوں کا ڈھیر لگادیا گیا اوراس کے بعد اس میں اس وقت تک تیز آگ بھڑکائی گئی جب تک کہ لاش بھسم نہ ہوجائے۔پھر لاش کی راکھ نالے میں بہا دینے کے بعد ہوماکنڈا کی ٹائلس بدل دی گئیں اور اسے ازسرِنو تیار کیا گیا ۔جب ملزموں کو نرنجن بھٹ کے گھرپر کرائم سین کے معائنے کے لئے لایا گیا تھا تو اس وقت وہاں پر موجود علاقے کے کچھ ذمہ دار افراد نے ملزم نرنجن بھٹ اور مقتول بھاسکر کے بیٹے نونیت سے پوچھا کہ اتنی بڑی لاش اس چھوٹے سے ہوما کنڈا میں کس طرح جلائی گئی ، تو ملزموں نے بڑے اطمینان اور سنگدلی کے ساتھ جواب دیاکہ : کوئی تازہ لاش لاؤ، ہم تم کو دکھائیں گے کہ ہوماکنڈا میں لاش کس طرح جلائی جاتی ہے!
لانڈری سے خون آلود کپڑے برآمد: خبر ملی ہے کہ پولیس کو تازہ ثبوت کے طور پر بھاسکر کی لاش جلاتے وقت نرنجن بھٹ اور راجیشوری کے جسم پر موجود کپڑے کارکلا کے نیٹّے گاوں کی ایک لانڈری سے دستیاب ہوئے ہیں جن پر خون کے داغ موجود ہیں۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہواہے کہ اس میں بھاسکر کے بیٹے نونیت کے کپڑے شامل ہیں یا نہیں۔البتہ معلوم ہوا ہے کہ نرنجن بھٹ کی دھوتی اور راجیشوری کے چوڑی دار کا پاجامہ اس میں شامل ہے۔جو اس وقت پولیس کے قبضے میں ہے۔لیکن پولیس کی تحقیقاتی ٹیم اپنے اعلیٰ افسران کی ہدایت پراب کسی بھی قسم کی تفصیل ظاہر کرنے سے گریز کررہی ہے
ہڈیوں کا ڈی این اے ٹیسٹ: خیال رہے کہ اس سے پہلے جلی ہوئی لاش کی کچھ ہڈیاں پانی کے نالے سے پولیس کے ہاتھ لگی تھیں جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بھاسکر شیٹی کی ہی ہوسکتی ہیں۔ ان ہڈیوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے بھیجے جانے کی بات بھی سننے میںآئی ہے۔مگر اس میں تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ ہڈیوں کے ڈی این اے سے مطابقت ثابت کرنے کے لئے بھاسکر شیٹی کی ماں اور اس کے دیگر رشتے داروں کا ڈی این اے سیمپل حاصل کرنا ہوگا جس کے لئے پولیس کو پہلے عدالت سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔
لاش کے باقیات ہیں کہاں ؟: جیوتشی نرنجن بھٹ نے پولیس کو بتایا تھا کہ لاش کو جلانے کے بعد باقیات کو جلی ہوئی ٹائلس سمیت 25تھیلوں میں بھر کر قریبی نالے میں بہادیا گیا تھا۔ لیکن شاید پولیس کو اب یہ بات پتہ چلی ہے کہ نرنجن نے اسے گمراہ کرنے کے لئے بیان دیاتھا۔ اور اصل میں یہ باقیات کڈانڈالے نامی مقام پر شامبھاوی ندی میں پھینکی گئی ہیں۔ پتہ چلا ہے اے ایس پی سومانا کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم کا ایک بڑا قافلہ شامبھاوی ندی کے پاس پہنچا تھا جس میں ملزمین بھی موجود تھے۔ لیکن جیسے ہی وہاں لوگوں کاہجوم بڑھنے لگا اور میڈیا والے پہنچنے لگے تو اس مقام کی چند تصاویر اتارنے کے بعد پولیس ٹیم یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ گئی کہ یہ کارروائی بھی بس کیس کی تفتیش کا ایک حصہ ہے۔
اب تک پانچ ملزمین گرفتار: پولیس نے اس مرڈر میں ملوث ہونے کے الزام میں اب تک پانچ لوگوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ جن میں مقتول بھاسکر کی بیوی راجیشوری، بیٹا نونیت، جیوتشی نرنجن عرف ارسنّا ، نرنجن کا باپ کرشنا بھٹ اور کار کا ڈرائیورراگھویندرا شامل ہیں۔پولیس مزید لوگوں کے اس میں شامل ہونے کی بھی تحقیقات کررہی ہے۔ اسی دوران مقتول کی والدہ گلابی شیٹی نے اعلیٰ افسران اور سیاسی لیڈروں کو میمورنڈم دیتے ہوئے گزارش کی ہے کہ اس کیس کی تحقیقات سی آئی ڈی کے حوالے کی جائے ۔ اور مزید دولوگوں کے اس کیس میں ملوث ہونے کے بارے میں تفتیش کی جائے۔ گلابی کے مطابق بھاسکر کے قتل میں راجیشوری کے بہنوئی جس کا نام بھی اتفاقاً بھاسکر شیٹی ہی ہے، اور اسکے بھانجے بالاکرشنا شیٹی کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ بھاسکر کے سعودی عربیہ والے بزنس میں ا ن دونوں کا بھی ساتھ تھا۔
گلابی شیٹی نے مطالبہ کے اس کے بیٹے کے غائب ہونے کے بعد سے قتل کا معاملہ سامنے آنے تک کے عرصے میں مذکورہ بالا مشتبہ افراداور راجیشوری کے بیچ ہونے والی فون کالس کا جائزہ لیا جائے۔ اور یہ بھی پتہ چلائے کہ نونیت اور راجیشوری نے بھاسکر کے قتل کے دن بینک سے جو بڑی خطیر رقم نکالی تھی وہ کس کے کھاتے میں چلی گئی ہے۔پتہ چلاہے کہ بال کرشنا شیٹی کو جسے مبینہ طور پر راجیشوری نے قتل کے بعد ضمانت اور قانونی کارروائی کے لئے بڑی رقم دے دی تھی پولیس نے تفتیش کے لئے حراست میں لیا ہے۔
پولیس کے سلسلے میں افواہ نہ پھیلائیں: ایک طرف عوام اور سیاستدانوں کی طرف سے اس کیس کی تحقیقات پر بے اطمینانی ظاہر کی جارہی ہے اور خاص کر انسپکٹر گریش کے رول پر انگلی اٹھائی جارہی ہے ۔ یہاں تک کہ کرناٹکا رکھشنا ویدیکے نے انسپکٹر گریش کو معطل کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کی ہے۔ دوسری طرف ایس پی بالا کرشنا نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ اس قتل معاملے کے بارے میں افواہیں نہ پھیلائیں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام نہ کریں۔ ان کے مطابق پولیس اب تک بہت ہی عمدہ طریقے پر تحقیقات کی ہے اور پیشہ ورانہ ایمانداری کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت ساری رکاوٹوں کے باوجود پولیس نے اتنا شاندار کام کیا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ لوگ اس کے باجود پولیس کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ Buntara Sangha کی طرف سے آسکر فرفانڈیز کو دئے گئے میمورنڈم میں بنٹ کمیونٹی لیڈروں نے الزام لگایا تھا کہ قتل کے معاملے میں پردے پیچھے سے اپنا کردار ادا کرنے والوں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی کی طرح کھیل رہی ہے اور قاتلوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔
بہرحال پولیس چوکسی اور تندہی دیکھتے ہوئے اس قتل کے سلسلے میں آئندہ کچھ دنوں میں مزید چونکانے والے پہلو سامنے آنے کی امید کی جارہی ہے۔